22 اکتوبر 2017 - 15:37
ایران اور پاکستان کے درمیان سنہری اقتصادی مواقعوں میں اضافہ

اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کو باہمی اقتصادی اور تجارتی روابط کے فروغ کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کو باہمی اقتصادی اور تجارتی روابط کے فروغ کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے.

دونوں ممالك كے اعلي متعلقہ عہديداروں نے باہمي اقتصادي اور تجارتي حجم كو 5 ارب ڈالر تك پہنچانے كے لئے اپنے عزم كا اظہار كيا ہے ليكن اس ہدف تك پہنچنے كے لئے مزيد اقدامات كي ضرورت ہے.

ايران اور مغربي ممالك كے درميان مشتركہ جوہري معاہدے كے نافذ ہونے كے بعد ايران اور پاكستان كے درميان تجارتي اور اقتصادي روابط كي توسيع كے لئے منفرد مواقع سامنے آئے ہيں.

گزشتہ سالوں كي نسبت ميں دونوں ہمسايہ ممالك كے اقتصادي روابط كا حجم ايك ارب ڈالر سے تجاوز كرگيا ہے ليكن مطلوبہ ہدف تك پہنچنے كے لئے مزيد اقدامات كي ضرورت ہے.

دونوں برادر ممالك كے عہديداروں كے مطابق دونوں ممالك كے نجي شعبے اس حوالے سے اہم كردار ادا كرسكتے ہيں ليكن نجي شعبے ميں سرگرم ن‍ظر نہيں آرہے جس كي وجہ سے دونوں ممالك سنہري مواقع كھو رہے ہيں.

رواں سال اپريل كے مہينے ميں دونوں ممالك كے 20 ويں مشتركہ اقتصادي كميشن كا اجلاس تہران ميں منعقد ہوا جس ميں باہمي تجارتي روابط كے فروغ پر زور ديا گيا.

اس سے پہلے دونوں ممالك كے سٹيٹ بينكوں نے بينكنگ شعبے كي بحالي كے لئے ايك معاہدے پر دستخط بھي كئے تھے ليكن ابھي تك اس پر عملدرآمد نہيں ہو پايا ہے.

ايران دنيا ميں پاكستاني باسمتي چاول كو سب سے زيادہ درآمد كرنے والے ملك ہے اور پاكستاني ماركيٹ ميں بھي ايران كے مختلف كوالٹي مصنوعات كي مانگ كافي زيادہ ہے.

پاكستان كے بڑي چھوٹي ماركيٹوں ميں چيني اور مغربي مصنوعات بہ آساني دستياب ہيں ليكن ايراني مصنوعات ہمسايہ ملك ہونے كے با وجود باہمي تجارتي سرگرميوں كي كمزوريوں كي وجہ سے نہيں ميسر آتي ہيں.

پاك ايران گيس پائپ لائن بھي كئي سال گزرجانے كے باوجود اب تك مكمل نہيں ہو سكا حال آنكہ يہ منصوبے پاكستان كے توانائي مشكلات كے حل كے لئے اہم كردار ادا كرسكتا ہے.

پاكستاني تجزيہ كاروں كے مطابق اگر يہ پائب لائن عملي شكل اختيار كرجائے تو پاكستان ميں موسم سرما ميں گيس لوڈ شيڈنگ كا نہ صرف خاتمہ ہوگا بلكہ پاكستان كي مختلف صنعتوں كي ترقي ميں كردار ادا كرسكے گي.

گزشتہ ايام ميں پاكستاني حكومت نے ايران سے 100 ميگا واٹ بجلي كي خريداري كے لئے حكم جاري كيا ہے جس كے نتيجے ميں ايران سے ملحقہ پاكستاني علاقوں كے بجلي كے كمي كے مسائل ختم ہوجائئں گے

اس سے پہلے ايراني حكومت نے اعلان كيا ہے كہ ايران پاكستان كو 3 ہزار ميگا واٹ تك بجلي فراہم كرسكتا ہے.

سيالكوٹ كے ايوان صنعت اور تجارت كے ركن 'خاور انور' نے اسلام آباد ميں ارنا كے نمائندے كے ساتھ گفتگو كرتے ہوئے ايران اور پاكستان كے درميان موجود سنہري مواقعوں كا حوالہ ديتے ہوئے كہا ہے كہ اقتصادي اور تجارتي روابط كي توسيع كے لئے دونوں ممالك كے اعلي عہديداروں كو چاہيئے كہ دونوں ممالك كے تاجروں كو مزيد سہوليات فراہم كريں.

اس كے باوجود انہوں نے آنے والے مہينوں اور سالوں ميں دونوں ممالك كے درميان اقتصادي روابط كے فروغ كے حوالے سے اپنے اطمينان كا اظہار كيا ہے.

يقينا پاك ايران ديرنيہ تعلقات اور تاريخي ثقافتي زباني اور مذہبي اشتراكات دونوں ہمسايہ اور مسلمان ممالك كو مزيد قريب لانے ميں كردار ادا كرسكتے ہيں ليكن اس مقصد تك پہنچنے كے لئے دونوں ممالك كے اعلي عہديداران كو مل جل كر مزيد تعاون كرنے كي ضرورت ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲